
ہر پنجابی کے ذہن میں ریاستی اداروں اور فوج کی جانب سے یہ تاثر مضبوطی سے بٹھا دیا گیا ہے کہ بلوچستان میں ہونے والی ہر کارروائی دہشتگردی کے خلاف ہوتی ہے۔ نتیجتاً پنجابی بغیر سوال اٹھائے اس بیانیے کو تسلیم کر لیتے ہیں۔
جب کسی بلوچ کو جبری طور پر لاپتہ کیا جاتا ہے، ٹارچر سیل میں اس کی موت واقع ہوتی ہے، یا اس کی مسخ شدہ لاش ملتی ہے، تو فوراً اسے “دہشتگرد” قرار دے دیا جاتا ہے۔ عام تاثر یہ بنا دیا گیا ہے کہ وہ کسی نہ کسی تنظیم سے وابستہ تھا، اور وہ بے گناہ ہو ہی نہیں سکتا۔
مزید یہ کہ ایک وسیع پیمانے پر یہ سوچ پھیلائی گئی ہے کہ بلوچ قوم بطور مجموعی غدار یا دہشتگرد ہے، اور ہر بلوچ کو کسی علیحدگی پسند تنظیم سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی بلوچ ریاست کے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کی بات بھی کرے یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائے، تو اسے فوراً غیر ملکی ایجنٹ، جیسے “را” یا یہاں تک کہ بی ایل اے کا پراکسی، دیگر طاقتوں کا آلہ کار قرار دے دیا جاتا ہے۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ریاستی نظام کے وہ افراد، جو پارلیمان یا دیگر اداروں سہولت کاروں کا حصہ ہیں اور حقیقت سے آگاہ بھی ہوتے ہیں، اکثر ذاتی مفادات یا مراعات کی خاطر اسی بیانیے کی تائید کرتے نظر آتے ہیں۔ اس سے نہ صرف سچ دب جاتا ہے بلکہ پنجابی کے زہن میں مزید غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔
آج صورتحال یہ بنتی جا رہی ہے کہ بلوچستان میں عام لوگوں پر بھی دہشتگردی کے الزامات لگا کر کارروائیاں کی جاتی ہیں، اجتماعی سزائیں دی جاتیں ہیں ۔ اور یوں ایک خاص بیانیہ پنجاب کے عوام کے سامنے رکھا جاتا ہے کہ یہ سب لوگ دہشتگرد ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حالات میں ایک بلوچ کے لیے اپنی شناخت کے ساتھ خود کو بے گناہ ثابت کرنا بھی ایک مشکل امر بنتا جا رہا ہے/ کاپی- عبید قادر فیسبوک
Related